گونگی عوام

ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﻠﮏ ﭘﺮﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ایک انگریز اس ملک میں آیا اور اس ملک میں تجسس لینا شروع کر دیا اور ملک کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے وہاں کے حکمران کو کہا کہ آپ کی
رعایا میں شعور نہیں ہے حکمران نے کہا کہ وہ کیسے انگریز نے کہا تم اپنی عوام کےساتھ کچھ بھی کرلو یہ سوال نہیں اٹھائے گی اس پر حکمران کو یقین نہ آیا تو اس نے کہا ہر گزرنے والے کیلئے 5 روپےکا ٹیکس لگا دیا جائے تو پهر ایسا ہی ہوا لیکن عوام میں سے کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ یہ ٹیکس کیوں لگایا گیا انگریز نے کہا دیکها میں نے کہا تها نہ کہ تمهاری عوام میں کوئی شعور نہیں اب ٹیکس 10 روپے کر دو لیکن عوام سوال اٹھائے بغیر 10 روپے دیکر گزدنے لگی بادشاہ کو پهر غصہ آیا اور اس نے 10 سے 50 روپے کا ٹیکس لگا دیا لیکن عوام انتہائی ڈھیٹ ٹھہری اور بغیر سوال کیے 50 کا ٹیکس دینے لگ پڑے..

پهر بادشاہ کے غصے کی انتہا نہ رہی اس نے کہا ٹیکس کےساتھ ساتھ جوتے لگا کر بھیجا جائے ایسا ہی ہوا تھوڑے دنوں بعد ﺟﺐ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﯿﺪﺍﺭ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ!!
ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﺠﻮﻡ ﮨﮯ۔ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺍ اور انگریز کو کہا دیکھو میری عوام میں شعور ہے آج سوال اٹھانے کیلئے پہنچ گئے ہیں ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺳﺠﺎ ﮐﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺁﺋﮯ ﮨﻮ۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ
ﺟﻮﺗﮯ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﮨﻢ ﺟﻮﺗﮯ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺟﻠﺪﯼ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ اور اپنے کام کاج پر وقت سے پہنچ جایا کریں ۔۔۔۔
جو قوم اپنے حق کے لیے کھڑی نہیں ہوتی اور اپنے اوپر کی گیی زیادتی پر نہیں بولتی اس کا حال یہی ہوتا ہے جو اس بادشاہ نے اپنے عوام کے ساتھ کیا. اگر دیکھا جائے تو ہمارا حال بھی ان سے کچھ مختلف نہیں ہے، آج ہم ۔پرٹیکس پے ٹیکس لگایا جا رہا ہے اب بس کمی ہے ۔توجوتوں کی

Advertisements