meridies_maxcrown

معاذجہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص قرآن پڑھے اور اس پر عمل کرے اس کے والدین کو قیامت کے دن ایک تاج پہنایا جائے گا

جس کی روشنی آفتاب کی روشنی سے بھی زیادہ ہوگی اگر وہ آفتاب تمہارے گھروں میں ہو پس کیا گمان ہے تمہارا اس شخص کے متعلق جو خود عامل ہو (احمد)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن ایک حافظ قرآن اپنے خاندان میں سے دس ایسے افراد کی سفارش کرے گا جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوگی (یعنی ان کا جہنم میں جانے کا فیصلہ ہوچکا ہوگا) اور اللہ تعالیٰ اس کی سفارش قبول کرے گا اور ان دس افراد کو اس حافظ قرآن کے ساتھ جنّت میں داخلہ نصیب فرمائے گا۔( ترمذی۔ احمد)

سبحان اللہ۔ یہ احادیث مبارکہ سنتے ہی میرے منہ سے بے اختیار نکلا میری آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک موٹی لڑی نکلی اور زمین پر گر کر جذب ہوگئی۔ آہ۔ میں کتنا بدنصیب باپ ہوں میرے بچّے آہ۔ میرے نالائق بچے۔ آج میرے کسی کام کے نہیں میں نے انہیں پالا پوسا جوان کیا۔ ان کی شادیاں کیں آج جب میرے بوڑھے جسم میں طاقت ختم ہوگئی ہے کچھ کرنے کے قابل نہیں رہا تو میرے بچّوں نے مجھے گھر سے نکل جانے کی دھمکی دے دی۔ اے خدا کاش مجھے ایسی اولاد نصیب نہ کرتا اولاد تو ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے ان کے جگر کا ٹکڑا ہوتی ہے لیکن میری اولاد۔ کاش میری اولاد بھی نیک ہوتی۔ اے کاش۔ ایک ٹھنڈی سانس بھر کے میں نے اپنا سر اوپر کیا چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو مسجد خالی ہوچکی تھی۔ شاید نمازی نماز پڑھ کر گھروں کو چلے گئے تھے امام صاحب بھی اپنی حدیثوں والی کتاب الماری میں رکھ کر جارہے تھے۔ میں بھی دیوار کے سہارے سے اٹھا اور مسجد سے باہر نکل آیا۔

گھر پہنچ کر میں سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا، کچن میں میری بڑی بہو کھانا پکانے میں مشغول تھی جب کہ چھوٹی بہو آج اپنے میکے گئی ہوتی تھی۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے جو کہ ختم ہونے کا نام ہی نہ لے رہے تھے۔ ایک غم تھا جو کہ اندر ہی اندر مجھے کھائے جارہا تھا ایک چوٹ تھی جو کہ مجھ سے برداشت ہی نہیں ہورہی تھی۔ کاش کہ میں نے اپنے بچّوں کو دینی تعلیم سے بھی روشناس کرایا ہوتا کاش انہیں دین اسلام کی کچھ باتیں ہی سکھادی ہوتیں، انہیں زندگی گزارنے کے کچھ طریقے ہی سکھادئیے ہوتے تو شاید میرے ساتھ یہ حال نہ ہوتا۔ ہاں غلطی میری ہی تھی میں نے انہیں شروع سے ہی شہر کے اونچے اور انگلش میڈیم اسکول میں داخل کرادیا تھا ان کا سارا نصاب تو انگلش میں تھا ہی ماحول بھی انگلش والا تھا گویا جیسے اردو لکھنا پڑھنا جانتے ہی نہ ہوں، بڑا بیٹا تھا جو تھوڑی بہت اردو سمجھ لیتا تھا چھوٹے کو تو بالکل ہی نہیں آتی تھی۔ گھر میں وہ میرے ساتھ بھی انگلش بولنے کی کوشش کرتے لیکن میں ان کو جواب اردو میں ہی دیتا تھا کتنا فخر تھا مجھے اپنے بیٹوں پر جب وہ انگلش بولتے تو میرا دل خوشی سے لبریز ہوجاتا اور میں جھوم جھوم کر ان کی اور زیادہ حوصلہ افزائی کرتا مجھے اچھّی طرح یاد ہے کہ ایک دفعہ میرے چھوٹے بیٹے نے مجھ سے انگلش میں میرا حال احوال پوچھا تو میں نے خوشی سے اسے گلے لگالیا اور ایک چھوٹا سا انعام بھی دیا، انعام لے کر وہ خوش ہوگیا لیکن آج جب یہ واقعہ یاد آیا تو میں بری طرح رونے لگ گیا ہائے میرے بچے۔ میرے بچّوں نے مجھے چھوڑ دیا صاف ظاہر ہے جب میں نے انہیںانگریزوں والی تعلیم دلوائی تو انہوں نے میرے ساتھ سلوک بھی انگریزوں والا ہی کرنا تھا۔ مجھے یہ بھی اچھّی طرح یاد ہے بچپن میں میرے بچّوں کو اسکول سے دو بجے چھٹی ہوا کرتی تھی اور تین بجے انہیں اکیڈمی پڑھنے جانا ہوتاتھا اور پھر اکیڈمی سے رات گئے واپس آتے تھے میری بیوی کچھ دین دار، سلیقہ شعار اور سمجھ رکھنے والی خاتون تھی۔ ایک دفعہ مجھے کہنے لگی۔

صائم کے پاپا، بچّوں کو قرآن مجید بھی پڑھنا چاہیے میں چاہتی ہوں کہ ہمارے بچّے قرآن مجید بھی پڑھیں۔

میں اپنی بیوی کی بات سن کر سوچ میں پڑ گیا۔ ان کو تو ٹائم ہی نہیں ملتا، قرآن کریم کی تعلیم وہ کیسے حاصل کریں گے۔ میں نے اپنی بیوی کو یہ بات بتائی تو وہ بولی۔ بچّوں کے پاس دو سے تین بجے تک کا وقفہ ہوتا ہے اس دوران قاری صاحب سے بات کر آئیں تو وہ آدھا گھنٹہ دے دیا کریں۔

مجھے یہ تجویز بھلی لگی میرے گھر کے ساتھ ہی ایک اچھّا سا مدرسہ تھا میں اسے مدرسے میں گیا قاری صاحب سے ملاقات کی اور اپنے بچّوں کے بارے میں ان کو بتایا اور ساتھ قرآن مجید پڑھانے کی آفر بھی کی، انہوں نے وقت پوچھا تو میں نے ان کو وقت بھی بتادیا بس وقت کا سننا تھا کہ قاری صاحب نے مجھ سے معذرت کرلی کہ ہم بچّوں کو کم از کم ایک گھنٹہ پڑھاتے ہیں، اس سے کم وقت میں نہیں پڑھاسکتے، میں قاری صاحب سے آدھے گھنٹے پر ہی اصرار کرتا رہا لیکن جب وہ نہ مانے تو آخر تنگ آکر انہوں نے مجھے کچھ ایسی باتیں کہیں جو کہ آج مجھے شدّت سے یاد آرہی تھیں کتنی سچائی تھی ان کے کہتے ہوئے ایک لفظ میں۔ کتنی مٹھاس تھی ان کی باتوں میں ان کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ سچ ثابت ہورہا تھا کاش میں نے ان کی باتوں پر تھوڑا سا عمل کیا ہوتا، ان کی باتوں کو ٹھنڈے دماغ سے سوچا تو ہوتا جی چاہ رہا تھا کہ دوڑ کر جاؤں اور ان کے پاؤں چوم لوں لیکن اب تو وقت گزر گیا تھا، قاری صاحب وقت کے ساتھ ساتھ خود بھی گزر گئے تھے میں غم سے نڈھال ہوگیا اپنے آپ کو ہلکا کرلیا تھا، ہاں واقعی قاری صاحب نے ٹھیک کہا تھا کہ دنیاوی تعلیم کو تو دیں آپ بارہ گھنٹے اور دینی تعلیم کو صرف آدھا گھنٹہ، کامیاب انسان تو وہی ہے جس کے پاس دونوں تعلیمات ہوں جتنا وہ دنیاوی تعلیم حاصل کرنے میں لگا رہتا ہے اتنا وہ دینی تعلیم کو بھی حاصل کرے آپ نے اپنے بچّوں کو انگلش اسکولوں میں تو داخل کرایا ہوا ہے بے شک آپ اپنے بچّوں کو اچھّی تعلیم سے روشناس کرارہے ہیں لیکن یہ تعلیم تو اس وقت تک ہمارا ساتھ دے گی جب تک ہم زندہ رہیں گے، مرنے کے بعد تو قبر میں صرف دینی تعلیم ہی کام آئے گی کل جب ہم مرجائیں گے تو ہمارے بچّے ہمیں قرآن کریم پڑھ کر ایصال ثواب تو کرسکیں گے ہمیں کفن پہنا کر دفن تو کرسکیں گے، کتنے بدنصیب ہوں گے وہ والدین جنہیں مرنے کے بعد بچّوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا، بچّوں کو ان کی نماز جنازہ پڑھنے کا طریقہ ہی نہیں آتا ہوگا، انہیں یہ بھی معلوم نہ ہوگا کہ ہم نے اپنے والدین کو قبر میں کیسے اتارنا ہے انہیں کیسے نہلا کر کفن پہنانا ہے۔

ہاے استغفر اللہ، میں زار و قطار رونے لگا میں ابھی زندہ ہوں، زندہ ہونے کی حالت میں بھی میرے بچّوں سے مجھے کوئی فائدہ نہیں ہے، بعد مرنے کے کیا ہوگا۔ قاری صاحب کی باتیں میرے دل پر تیر بن کر چبھ رہی تھیں آج مجھے معلوم ہورہا تھا کہ قاری صاحب نے وہ باتیں میرے فائدے کے لیے ہی کہی تھیں، اس وقت تو میں نے قاری صاحب کی ان باتوں پر توجہ ہی نہیں دی تھی ایک خیالی ذہن جیسی باتیں سمجھ کر واپس آگیا تھا۔ اگلے روز میں پھرقاری صاحب کے پاس نہ گیا میں اپنے بچّوں کو اسکول باقاعدگی اور پابندی کے ساتھ بھیجا کرتا تھا کیوں کہ مجھے معلوم تھا بلکہ میرا خیال تھا کہ میرے بچّے اچھّی تعلیم حاصل کرکے کل کو اچھّے شہری اچھّے انسان بن جائیں گے میرا ارادہ تھا کہ میں اپنے بڑے بیٹے کو ڈاکٹر بناؤں گا جو کہ بڑھاپے کی حالت میں میری خدمت کرے گا چھوٹے بیٹے کو بھی کسی بڑے عہدے پر فائز کرادوںگا لیکن آج جب میری خدمت کا وقت آیا تو بچّوں نے مجھ سے منہ موڑ لیا اور ایسے ناطہ توڑا کہ پھر بیویوں کے ہو کر رہ گئے، بڑی بہو تو مجھے گھر میں ایک بوجھ سمجھتی تھی چھوٹی بہو جب سے بیا کر آئی تو اس نے آج تک مجھ سے بات تک نہیں کی تھی اسے تو میں شروع سے ہی برا لگنے لگا تھا میری شریک حیات بھی اس صدمے کی وجہ سے اس دنیا سے چل بسی تھی چھوٹے بیٹے کو تو اپنے بزنس سے فرصت ہی نہیں ملتی تھی اس نے تو آج تک میری خدمت بھی صحیح طرح نہ کی ہر وقت پیسہ کمانے کے چکر میں پڑا رہتا، بڑا بیٹا بھی اپنی مصروفیت کے باعث مجھ سے نہ مل سکتا تھا اے خدائے پاک میں کیا کروں۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے میں صدمے سے پاگل ہوا جارہا تھا اے کاش جب میں مر جاؤں گا میرے بچّوں کو اتنی بھی فرصت نہیں ہوگی کہ میری نماز جنازہ پڑھ سکیں اور مجھے صحیح طرح سے دفناسکیں اے کاش، پچھتانے کے سوا اب تو کوئی چارہ ہی نہیں وقت تو گزر گیا تھا مجھے بار بار وہ احادیث مبارکہ یاد آرہی تھیں جو کہ میں نے مسجد میں سنی تھیں جس میں یہ ذکر تھا کہ قرآن مجید پڑھنے والا شخص جس پر وہ عمل بھی کرے اس کے والدین کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے زیادہ ہوگی۔ آہ کتنے خوش نصیب ہوں گے وہ والدین جس کے بچّوں نے قرآن مجید پڑھا ہوگا۔ اسے یاد کیا ہوگا اور اس پر عمل کیا ہوگا میں ہی بدنصیب ہوں جو کہ اپنے بچوںکو قرآن کریم نہیں پڑھاسکا۔ آج ان کی یہ تعلیم میرے کس کام کی میرے بڑے بیٹے کا ڈاکٹر بننا میرے کس کام کا کہ میں بیمار ہوجاؤں اور وہ میرا علاج نہ کرسکے، چھوٹے بیٹے کا بزنس سنبھالنا میرے کس کام کا مجھے تو آج تک یہ بھی یاد نہیں کہ اس نے مجھ پر کچھ خرچ بھی کیا یا کوئی مجھے پھوٹی کوڑی دی ہوں حالاں کہ اس کا کاروبار کتنا وسیع تھا۔ کاش میں نے انہیں دین اسلام کی کچھ باتیں ہی سکھادی ہوتیں انہی یہ تو سمجھا ہی دیا ہوتا کہ والدین کی خدمت کرنے پر اللہ تعالیٰ نے کیا کیا انعامات رکھے ہیں تو شاید آج میرا یہ حال نہ ہوگا۔اے خدا مجھے معاف فرما۔ آمین

Advertisements