hell1-992x558

رابعہ بصری نے گوشہ نشینی اورترک دنیاکے شوق کے پیش نظر صحراؤں کارخ کیا۔ وہ دن رات معبودِ حقیقی کی یاد میں محو ہوگئیں۔خواجہ حسن بصری، رابعہ بصری کے مرشد تھے۔ غربت، نفی ذات اورعشقِ الٰہی اُن کے ساتھی تھے۔ اُن کی کل متاع حیات ایک ٹوٹا ہوا برتن، ایک پرانی دری اور ایک اینٹ تھی، جس سے وہ تکیہ کا کام بھی لیتی تھیں۔ وہ تمام رات عبادت و ریاضت میں گزار دیتی تھیں اور اس خوف سے نہیں سوتی تھیں کہ کہیں عشق الٰہی سے دور نہ ہوجائیں۔ جیسے جیسے رابعہ بصری کی شہرت بڑھتی گئی،آپ کے معتقدین کی تعدادمیں بھی
اضافہ ہوتا گیا۔ آپ نے اپنے وقت کے جید علماء ومحدثین اور فقہا سے مباحثوں میں حصہ لیا۔

رابعہ بصری کی بارگاہ میں بڑے بڑے علماء نیازمندی کے ساتھ حاضر ہواکرتے تھے۔ ان بزرگوں اور علماء میں سرفہرست حضرت امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جو امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے ہم عصر تھے اورجنہیں ’امیرالمومنین فی الحدیث‘ کے لقب سے بھی یادکیا جاتا ہے۔

گو رابعہ بصری کو شادی کے لئے کئی پیغامات آئے،جن میں سے ایک پیغام امیرِ بصرہ کا بھی تھا لیکن آپ نے تمام پیغامات کو رد کردیا، کیونکہ آپ کے پاس سوائے اپنے پروردگار کے اورکسی چیزکے لئے وقت تھا اور نہ طلب۔ رابعہ بصری کوکثرتِ رنج و الم اورحزن و ملال نے دنیا اور اس کی دلفریبیوں سے بیگانہ کردیا تھا۔ رابعہ بصری کے مسلک کی بنیاد”عشقِ الٰہی “ پر ہے۔

ایک مرتبہ حضرت رابعہ بصری جذب کی حالت بصرہ کی گلیوں میں ایک ہاتھ میں مشعل اور دوسرے ہاتھ میں پانی لئے جا رہی تھیں۔ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ یہ آپ کیا کرنے جا رہی ہیں؟ تو رابعہ بصری نے جواب دیا کہ میں اس آگ سے جنت کو جلانے اور اس پانی سے دوزخ  کی آگ بجھانے جا رہی ہوں، تاکہ لوگ اپنے معبودِ حقیقی کی پرستش جنت کی لالچ یا دوزخ کے خوف سے نہ کریں، بلکہ لوگوں کی عبادت کا مقصد محض اللہ کی محبت بن جائے

 

Advertisements